رائے پور،14؍ مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مرکزی وزیر داخلہ ہنس راج اہیر کا کہنا ہے کہ حکومت سیکورٹی فورسز کو نکسلیوں کے خلاف لڑائی میں نئے ساز سامانوں کے ساتھ لیس کر کے مضبوط بنانا چاہتی ہے۔اہیر اور وزیر اعلی رمن سنگھ نے آج رائے پور کے مانا واقع چھتیس گڑھ مسلح فورس کے چوتھی بٹالین کے ہیڈ کوارٹر میں سکما نکسلی حملے میں شہید نو جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔اہیر نے کہا کہ حکومت سیکورٹی فورس کو نئے ساز سامانوں سے لیس کر کے ان کی طاقت بڑھانا چاہتی ہے تاکہ نکسلیوں کے خلاف لڑائی اور بہتر ہو سکے۔ساتھ ہی معلومات نظام پر بھی زور دیا جائے گا۔اہیر نے کہا کہ نیم فوجی دستوں اور ریاستی پولیس کے درمیان بہتر تال میل کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے۔وہ نو جوانوں کی شہادت پر دکھی ہیں اور وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے اپنی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ نکسل ازم سے متاثر تمام ریاست اس مسئلہ کو چیلنج کے طور پر لے رہے ہیں۔اس مشکل لڑائی میں مقابلہ کرتے ہوئے ہمارے جوان شہید ہوئے ہیں۔ملک کی عوام توقع کرتی ہے کہ ایسے حادثے بار بار نہ ہوں اور مرکزی حکومت انہیں لے کر بیدار ہے۔اہیر نے کہا کہ حکومت فورسز کو قوت دینے پر زور دے رہی ہے۔بارودی سرنگوں کی تلاش کو لے کر بھی محتاط ہیں۔ انفارمیشن نظام کی کمی نہیں ہے۔انفارمیشن کی وجہ سے ہی کوبرا بٹالین کے جوانوں نے صبح نکسوادیو کو بھگایا تھا۔لیکن نکسلی ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسا واقعہ بار بار نہ ہو اور کیمپ اور جوان محفوظ رہے اس پر مرکزی حکومت سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔اہیر نے کہا کہ ماؤنوازوں کی یہ لڑائی غیر ضروری ہے اور ملک میں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے جلد ختم کرنے کے لئے نکسلواد سے متاثر ریاستوں کی حکومتیں اور مرکزی حکومت پوری طاقت سے مصروف عمل ہے۔مرکزی وزیر داخلہ نے نکسلیوں کے خلاف فوج کے استعمال کو لے کر کہا کہ ابھی ایسا فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔چھتیس گڑھ کے نکسل واد متاثر سکما ضلع کے کسٹارام علاقے میں نکسلیوں نے منگل کو سی آر پی ایف کے اینٹی لینڈمائن وہیکل کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔اس واقعہ میں سی آر پی ایف کے نو جوان شہید ہو گئے ہیں اور دو دیگر زخمی ہیں۔